ماہرینِ نیند کے مطابق اگر نیند کے بنیادی تقاضوں اور باڈی کلاک (جسمانی گھڑی) کو درست رکھا جائے تو انسان بغیر الارم کے بھی قدرتی طور پر وقت پر بیدار ہو سکتا ہے۔ صحافی ایلی ہرشلاگ کے ایک ہفتے کے عملی تجربے اور طبی ماہرین کی آرا پر مبنی اس رپورٹ کا خلاصہ درج ذیل ہے:
-
فطری معمول کی شناخت: بالغ افراد کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند ضروری ہے، جبکہ 6 گھنٹے سے کم نیند صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہر شخص کی حیاتیاتی ضرورت مختلف ہوتی ہے، اس لیے سب سے پہلے اپنے قدرتی سونے اور جاگنے کے وقت کا تعین کرنا ضروری ہے۔
-
مستقل شیڈول کی پابندی: سلیپ ریسرچرز ہیلن برجس اور ایتی بین سائمن کے مطابق روزانہ ایک ہی طے شدہ وقت پر سونے جانا باڈی کلاک کو منظم کرتا ہے، جس سے جسم خود بخود وقت پر پرسکون اور بیدار ہونے لگتا ہے۔
-
روشنی اور ہارمونز کا کردار: صبح کی قدرتی روشنی بیدار رکھنے والے ہارمون (کورٹیسول) کو متحرک کرتی ہے، جبکہ رات کے وقت روشنی مدھم کرنے سے نیند لانے والا ہارمون (میلاٹونن) پیدا ہوتا ہے۔
-
جسمانی درجہ حرارت اور ماحول: سونے سے دو گھنٹے قبل پرسکون معمول بنانا اور کمرے کا درجہ حرارت کم رکھنا معیاری نیند کے لیے انتہائی اہم ہے۔
-
ڈیجیٹل آلات اور غذا پر کنٹرول: سمارٹ فون کی نیلی روشنی اور دیر تک سوشل میڈیا سکرولنگ نیند کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ رات کو سونے سے 3 گھنٹے پہلے کھانا کھانے، کیفین کی حد مقرر کرنے اور الکوحل سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
-
تجربے کا نتیجہ: ایلی ہرشلاگ نے سکرین ٹائم محدود کر کے اور باقاعدہ شیڈول اپنا کر ایک ہفتے میں صبح 8 بجے بغیر الارم کے قدرتی طور پر جاگنا سیکھ لیا اور صبح کی سستی میں نمایاں کمی محسوس کی۔
ماہرینِ نیند کا کہنا ہے کہ نیند کوئی ’آن یا آف‘ کا سوئچ نہیں ہے بلکہ باڈی کلاک کو بتدریج تبدیل کرنے کے لیے ہر روز 30 منٹ پہلے سونے کا معمول بنانا چاہیے۔ نیز، سمارٹ فونز کے بے جا استعمال کی وجہ سے نوجوانوں میں نیند کی کمی اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے باقاعدہ معمولاتِ زندگی سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔