حافظ نعیم الرحمان: صرف ناکامی کا اعتراف نہیں، نظام کی اصلاح بھی ناگزیرامیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل صرف اس بات میں نہیں کہ ذمہ دار افراد اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیں، بلکہ ضروری ہے کہ پورے نظام میں مؤثر اصلاحات کی جائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ یہ بات انہوں نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جس کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نظامی کمزوریوں اور بدعنوانی کا بوجھ عام شہری برداشت کر رہے ہیں۔انہوں نے انتخابی نظام، بلدیاتی معاملات اور آئین کی بالادستی پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام اور آئینی تقاضوں پر عملدرآمد ملکی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق شفاف نظام ہی عوام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے ایف بی آر کی کارکردگی، ٹیکس وصولی کے نظام اور سرکاری اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ وسائل کے مؤثر استعمال اور شفافیت کے بغیر معاشی بہتری ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنایا جائے۔علاقائی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے مسلم ممالک کے درمیان تعاون کو اہم قرار دیا اور کہا کہ مشترکہ حکمت عملی سے خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فلسطین کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے کے لیے شفاف طرزِ حکمرانی، قانون کی بالادستی، عوامی اعتماد اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دیرپا ترقی اسی وقت ممکن ہوگی جب نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔