دل کی کمزوری یا ہارٹ فیلئر ایک سنگین طبی مسئلہ ہے جس میں دل جسم کی ضروریات کے مطابق خون مؤثر انداز میں پمپ نہیں کر پاتا۔ اس کے نتیجے میں مریضوں کو تھکن، سانس پھولنے اور بار بار اسپتال جانے جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ نیدرلینڈز میں ہونے والی نئی تحقیقات نے ایسے مریضوں کے علاج کے حوالے سے ایک پرانی اور کم قیمت دوا کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔یونیورسٹی میڈیکل سینٹر گروننجن (UMCG) کے ماہرینِ قلب کی قیادت میں ہونے والی تین تحقیقات میں ڈائیگوکسن (Digoxin) کی کم خوراک کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا گیا۔ محققین کے مطابق نتائج اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ مخصوص ہارٹ فیلئر مریضوں میں موجودہ علاج کے ساتھ ڈائیگوکسن شامل کرنے سے اسپتال میں داخل ہونے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔تحقیق میں تقریباً ایک ہزار مریض شاملایک تحقیق میں نیدرلینڈز کے 43 طبی مراکز سے ہارٹ فیلئر کے تقریباً ایک ہزار مریض شامل کیے گئے۔ تقریباً نصف مریضوں کو معمول کے علاج کے ساتھ کم خوراک والی ڈائیگوکسن دی گئی، جبکہ باقی مریضوں کو پلیسبو دیا گیا۔تقریباً تین سال تک مریضوں کی نگرانی کے بعد محققین نے دیکھا کہ کم خوراک والی ڈائیگوکسن لینے والے گروپ میں ہارٹ فیلئر کے باعث اسپتال داخل ہونے کے واقعات میں تقریباً 25 فیصد کمی ہوئی۔پرانی دوا دوبارہ کیوں اہم ہوگئی؟ڈائیگوکسن کوئی نئی دوا نہیں بلکہ طویل عرصے سے دل کی بعض بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ نئی تحقیق نے اس کے کم خوراک والے استعمال پر دوبارہ توجہ مرکوز کی ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ نسبتاً کم قیمت علاج ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے مستقبل میں ہارٹ فیلئر کے علاج کے رہنما اصولوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے اور ممکنہ طور پر مزید مریضوں کے لیے اس دوا کے استعمال پر غور کیا جا سکتا ہے۔ہر مریض کے لیے یہ دوا مناسب نہیںتحقیق کے نتائج دلچسپ ضرور ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ہارٹ فیلئر مریض خود سے ڈائیگوکسن استعمال کرنا شروع کردے۔ دوا کی خوراک اور استعمال کا فیصلہ مریض کی حالت، دیگر ادویات اور طبی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ ایکسپریس کی رپورٹ بھی واضح کرتی ہے کہ یہ دوا ہر مریض کے لیے لازماً موزوں نہیں۔تحقیقی نتائج مختلف سائنسی جرائد میں شائع ہوئے جبکہ انہیں بارسلونا میں منعقد ہونے والی ESC Heart Failure Congress میں بھی پیش کیا گیا۔ ان نتائج نے ہارٹ فیلئر کے علاج میں کم قیمت اور پرانی ادویات کے ممکنہ کردار پر دوبارہ بحث شروع کر دی ہے۔اہم باتیہ تحقیق امید افزا نتائج پیش کرتی ہے، لیکن اسے کسی فرد کے لیے طبی مشورہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہارٹ فیلئر کے مریض اپنی موجودہ دوا میں تبدیلی صرف اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔