پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے اسرائیل کی جانب سے غزہ سے متعلق مجوزہ امن منصوبہ مسترد کیے جانے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مشترکہ بیان میں سفارتی حل، جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔مشترکہ اعلامیے میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی جانب پیش رفت کرے۔ ان ممالک کے مطابق موجودہ صورتحال میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ غزہ میں انسانی بحران پہلے ہی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، اس لیے ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو امن عمل کو مزید پیچیدہ بنائیں۔ مسلم ممالک نے شہری آبادی کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر بھی زور دیا۔پاکستان نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام فریق ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق متعدد مسلم ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ مؤقف اختیار کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ کی صورتحال پر علاقائی سطح پر سفارتی ہم آہنگی بڑھ رہی ہے۔ تاہم امن کی کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ متعلقہ فریق مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے کس حد تک آمادگی ظاہر کرتے ہیں۔غزہ تنازع کئی برسوں سے خطے کے اہم ترین مسائل میں شامل ہے، اور حالیہ پیش رفت نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کر دی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل امن کے لیے سفارتی مکالمہ، انسانی امداد اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہیں۔
Posts Single Column
پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا اسرائیل کی جانب سے غزہ منصوبہ مسترد کرنے پر سخت ردعمل