موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان پاکستان کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ ایک جرمن ماہر نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ افراد کے حوالے سے مکمل اور مستند ڈیٹا کی شدید کمی ہے، جو ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔رپورٹس کے مطابق جرمن محقق نے University of Karachi میں ایک لیکچر کے دوران اس مسئلے پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقے جیسے بلوچستان، سندھ کے ساحلی علاقے اور گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں، مگر ان متاثرہ افراد کا درست ریکارڈ موجود نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف موسم کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات انسانی زندگی، معیشت اور نقل مکانی (migration) پر بھی پڑ رہے ہیں۔ سیلاب، خشک سالی، زمین کا کٹاؤ (erosion) اور پانی کی کمی جیسے مسائل لوگوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کر رہے ہیں۔مزید یہ کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، حالانکہ اس کا عالمی آلودگی میں حصہ نہایت کم ہے۔جرمن ماہر نے زور دیا کہ اگر متاثرہ آبادی کا درست ڈیٹا جمع نہ کیا گیا تو:مؤثر پالیسی سازی ممکن نہیں ہوگیامدادی سرگرمیاں متاثر ہوں گیخطرے سے دوچار علاقوں کی درست نشاندہی مشکل ہو جائے گیانہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی، سروے اور فیلڈ ورک کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ موسمیاتی خطرات سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔یہ صورتحال اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر ایک مضبوط ڈیٹا سسٹم اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی، ورنہ مستقبل میں موسمیاتی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔