پاکستان میں پیٹرولیم ڈیلرز اور وفاقی حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد ملک بھر میں پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان بدستور برقرار ہے۔ اس پیش رفت نے شہریوں، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے درمیان تقریباً پانچ گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، تاہم دونوں فریق اہم نکات پر اتفاق رائے قائم نہ کر سکے۔ مذاکرات کے دوران ماحول کشیدہ رہا اور ڈیلرز نے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے نظام کو ختم کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ ڈیلرز کے منافع (مارجن) میں اضافے کی تجویز کو وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ یقین دہانی ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے کافی نہیں، اسی لیے ہڑتال کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیا۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدابخش کے مطابق حکومت کو پہلے ہی 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا، لیکن مطالبات تسلیم نہ ہونے کے باعث اب 15 اگست کی صبح 6 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو ملک بھر کے ہزاروں پیٹرول پمپ بند رہیں گے، جس سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہڑتال طویل ہوگئی تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل، صنعتی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں اور غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔اب تمام نظریں حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں۔ اگر دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو ہڑتال سے بچنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، بصورت دیگر ملک میں ایندھن کی فراہمی ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر سکتی ہے
Posts Single Column
پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کے مذاکرات ناکام، ملک گیر پیٹرول پمپ ہڑتال کا فیصلہ برقرار