براہ راست نشریات دیکھیں

امریکہ کو نہ روکا گیا تو مسلم دنیا خطرے میں

مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال نے عالمی سیاست کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ایک طرف جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں تو دوسری جانب سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اسی تناظر میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی پالیسیوں کو نہ روکا گیا تو مسلم ممالک ایک ایک کرکے نشانہ بن سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ Ishaq Dar نے باقاعدہ پیشکش کی ہے کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی، جہاں اس تنازع کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی حکمت عملی کارفرما ہو سکتی ہے، جس کا مقصد مسلم دنیا کو کمزور اور تقسیم کرنا ہے۔ ماضی میں عراق، لیبیا اور شام جیسے ممالک بھی اسی طرح کے حالات کا شکار ہو چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع بڑھتا ہے تو پاکستان کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اسے ایران، سعودی عرب اور امریکہ جیسے اہم ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔اس کے علاوہ، جنگ کے اثرات صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی بھی ہو سکتے ہیں۔ تیل کی فراہمی متاثر ہونے سے عالمی معیشت اور خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس صورتحال میں پاکستان کی سفارت کاری نہایت اہم ہو گئی ہے، کیونکہ اگر وہ کامیابی سے مذاکرات کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی اور عالمی سطح پر اس کا مقام مزید مضبوط ہوگا۔آخر میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلم ممالک کو اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی، ورنہ موجودہ حالات مستقبل میں مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔